اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصری دانشور اور سعودی عرب کے امور کے ماہر "فکری عبدالمطلب" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا احتجاج جنوب میں ابہا کی یونیورسٹی سے شروع ہوا اور جنوب سے لے کر شمال تک کی جامعات تک پھیل گیا اور ان میں اہم ترین احتجاجی اقدامات دارالحکومت ریاض اور مدینہ منورہ میں انجام پائے اور کئی افراد ان مظاہروں کے دوران حراست میں لئے گئے۔
انھوں نے کہا: جامعات کے طلبہ کے احتجاج کے وہی مقاصد ہیں جو القطیف کی عوامی احتجاجی تحریک کے ہیں اور مقاصد میں یہ یکجہتی سعودی عرب میں عوامی قیام کی وسعت اور آل سعود کی مطلق العنانیت کے خاتمے اور وہابی تفکر کے زوال کے آغاز کی علامت ہے۔ عبدالمطلب نے کہا: یہ سلسلہ آل سعود کی حاکمیت کے جواز کے خاتمے اور نئی نسل کو تعلیمی و تربیتی سہولیاب فراہم کرنے کے سلسلے میں کم از کم اصلاحی عمل، میں بھی آل سعود کی مکمل ناکامی کی علامت ہے۔
فکری عبدالمطلب نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ سعودی عرب میں آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے وسیع واقعات کو عالمی سطح پر ابلاغی کوریج نہیں دی جاتی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی آل سعود کے جرائم پر خاموش نظر آتی ہیں اور لگتا ہے کہ گوی سعودی عرب کرہ ارضی پر واقع نہیں ہوا ہے بلکہ کسی اور سیارے میں واقع ہے۔انھوں نے کہا کہ آل سعود کے جرائم پر مغربی دنیا کی خاموشی کا سبب اس ملک میں مغربی مفادات کا تحفظ ہے۔
انھوں نے کہا: شام کے واقعات میں آل سعود کی دلچسپی کا ایک مقصد یہ ہے کہ اندرونی بحران کو فاش نہ ہونے دیا جائے اور دنیا کی رائے عامہ کو سعودی عرب کے حقائق سے منحرف کرکے شام کی طرف منعطف کردے چنانچہ صرف 48 گھنٹوں کے دوران سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے عالمی رائے عامہ کو سعودی عرب کی صورت حال اور عوامی احتجاجی تحریک سے منحرف کرنے کی غرض سے ترکی اور اردن کے راستے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اورمختلف قسم کے ہتھیار شام روانہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
فکری عبدالمطلب نے کہا: خلیج تعاون کونسل بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی ہے اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں اخوان المسلمین اور سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ دبئی کی ایک بڑی کمپنی کے سربراہ نے علاقے میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے ایران کے ساتھ قریبی تعاون کا مطالبہ کیا اور یہ بات امارات کی طرف سے آل سعود اور قطری آل ثانی کی پالیسیوں کی واضح مخالفت کی دلیل ہے۔
یادرہے کہ امارات نے حال ہی میں آل سعود اور آل ثانی کی تحریک پر ابوظہبی میں شامی سفارتخانے کے سامنے شامی حکومت کے مخالفین کے غیرقانونی مظاہرے پر ان کو ملک بدر کردیا جس پر مصر کی اخوان المسلمیں اور آل سعود و آل ثانی نیز کی طرف سے قطر کے مصری نژاد سرکاری مفتی اور لیبیا اور شام میں مغرب و نیٹو کی حمایت میں فتوے دینے والے شیخ یوسف القرضاوی نے اماراتی حکام پر شدید تنقید کی جس کے بعد امارات کی حکومت نے اخوان المسلمین اور امارات نے آل سعود اور آل ثانی کے موقف کی شدید مذمت کی اور دبئی کے پولیس چیف نے شیخ یوسف القرضاوی کی گرفتاری اور ان پر دبئی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔
فکری عبدالمطلب نے خلیج فارس کے علاقے میں تبدیلیوں کے ناقابل انکارعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الازہر سمیت بڑے اسلامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ آل سعود کے جبر و استبداد کے خلاف فیصلہ کن موقف اپنائیں۔ ........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: